The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

کراچی میں سپریم کورٹ کی تاریخی سماعت

ایڈویکٹ جنرل صاحب آپ ہانی صاحب کا نام سن کر اداس کیوں ہیں
جناب جب ہم جب بچپن میں شرارت کرتے تھے تو نانی ڈراتی تھیں شرارت نہ کرو ورنہ’بھاؤں‘ آ جائے گا


یہ تبصرہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں سماعت کے دوران ہلکے پھلے مذاق کے انداز میں کہا۔

ہوا یوں کہ جب کراچی میں شہریوں کو آلودہ پانی کے حوالے سے سندھ حکومت اور واٹر بورڈ کوئی مثبت اقدام سے مطمئن نہ کرسکی تو چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ ہم سابق جج سپریم کورٹ جسٹس امیر ہانی مسلم کو واٹر کمیشن کا نیا سربراہ بنا دیں جو اقدامات پر عمل درآمد کرائیں تاکہ شہریوں کو صاف پانی میسر آسکے ۔اب کچھ بات سابق جج جسٹس امیر ہانی مسلم کے بارے میں ‘ انہوں نے سندھ میں زمینوں اور پولیس کرپشن سمیت اہم مقدمات کی سماعت اور دیگر فاضل ججز کے ہمراہ صوبے اور شہر کو بل بورڈز ہورڈنگز ،چنگ چی ،پولیس میں اصلاحات سمیت کئی اہم مقدمات میں اپنے فیصلوں سے شہریوں کو ریلیف پہنچایا تاہم ان کی عدالت میں کئی ایسے سرکاری افسران تھے جن کی طلبی ہوتی تو وہ خّوب پریشان ہوتے تھے۔

کراچی میں عدالتی تاریخ اس وقت رقم ہوئی جب عدالت عظمیٰ نے چھٹی کے دو دنوں یعنی ہفتہ اور اتوار کو سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ۔سماعت شروع ہوئی تو سب پہلے اور آخر میں چیف جسٹس آف پاکستان نے کورٹ نمبر ون میں موجودتما م افراد کا شکریہ ادا کیا۔ عدالت میں سماعت شروع ہوئی تو پتا چلتا ہے کہ سندھ حکومت نےدودھ جیسی بنیادی ضرورت کی مانیٹرنگ کا ہی کوئی موثر انتظام نہیں کیا ہے کوئی ایسا ادارہ نہیں جو ان کی مسلسل کارکردگی کا جائزہ لیتا ہو‘ یہاں تک کہ یہ حال ہو گیا ہے کہ ٹی وائٹنر کو دودھ کہہ کر فروخت کیا جاتا رہا اور حکومت سوتی رہی عدالت نے احکام جاری کیے کہ آئندہ ٹی واٹنئر کو فروخت کے اشتہار اور مصنوعات پر ٹی وائٹنر لکھا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ یہ دودھ نہیں ہے۔

پانی کی کمی اور آلودہ پانی کا معاملہ زیر سماعت آیا تو حکومت بینچ کو ایک بار پھر منصوبوں اور دعووں میں الجھانے کی کوشش کرتی نظر آئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ’کچھ خدا کا خوف کریں آپ پانی بیچتے ہیں‘ ۔گورنمنٹ آف سندھ شہریوں کو پانی جیسی سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ دوران ِسماعت اعدادو و شمار سامنے آئے تو انکشاف ہوا کہ کراچی میں پانی کی کمی زیادہ اس کی تقسیم کا مسئلہ ہے جو کہ سنگین ہے۔چیف جسٹس بارہا سوال کرتے رہے کہ کوئی ہمیں بتائے کہ یہ ٹینکر مافیا کہ پیچھے کون ہے مگر کمرۂ عدالت میں موجود کوئی بھی شخص جواب نہ دے سکا ۔

عدالت نے واٹر کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لئے جب جسٹس امیر ہانی مسلم کانام سامنے آیا تو سرکاری افسران پریشان دکھائی دئیے اور چیف جسٹس نے ہلکے پھلکے انداز میں استفسار بھی کیا کہ ایڈو کیٹ جنرل سندھ صاحب آپ کیوں اداس ہو گئے ‘ سابق جج کو سپریم کورٹ کے جج کے اختیارات حاصل ہوں گے تاکہ وہ فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کرا سکیں ۔

عدالتِ عظمیٰ کی اس تاریخی سماعت کے دوران بہت سے وکیل اور صحافی بغیر ناشتے کے سماعت میں آنے کا دکھ ساتھیوں کو بتاتے رہے ۔سماعت کے دوران ایک موقعے پر عابد زبیری ایڈوکیٹ نے ایک فاضل جج کے فیصلے کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس مسکرا کر بولے‘ جب سے انڈیا میں چار ججوں نے پریس کانفرنس کی ہے میں محتاط ہو گیا ہوں ۔چیف جسٹس کے اس ریمارکس پر سب ہنس پڑے۔

اسی دوران عدالت نے مئیر کراچی وسیم اختر کو بھی طلب کیا جنھوں نے عدالت میں اپنے تحفظات بھی بتائے اور عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ شہر کے مسائل کے حل کے لئے اپنی تجاویز کے ہمراہ سات دن بعد اسلام آباد میں پیش ہوں گے۔عدالت نے سمندر کے پانی کو صاف کرکے قابل استعمال بنانے کے لیے سفارشات طلب کیں جبکہ کثیر المنزلہ عمارتوں پر پابندی بر قرار رکھتے ہوئے چھ منزلہ عمارتیں بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس حوالے سے تفصیلی احکامات اسلام آباد سے جاری ہوں گے تاہم سپریم کورٹ نے خبردار کیا ہے کہ تیار رہیں ہم اگلے پندرہ بعد پھر چھٹی کے دن عدالت لگا سکتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں