The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

تسبیح‘ آیتِ کریمہ اور رہائی

چائے کی چسکی کے ساتھ  میں اورخان ڈھابے کے ہوٹل سے پکوڑے کھانے اور گپیں لگانے میں مصروف تھے کہ  گاڑیوں کے ایک بڑے اسکواڈ میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری سیاسی تنظیم کے رہنما کو لے کر عدالت  پہنچ گئی۔ میں  نے خان صاحب  سے کہا کہ پہنچ گیا ہے مہمان چلو اندر چلتے ہیں  ہاں  یار یہ تو ہنستا ہے تو اس کو بھی رپورٹ کرنا پڑ جاتا ہے۔

ابے اس پرالزامات کیا کیا ہیں بھائی۔ جلدی بتا یار۔ میری یہ بیٹ کا بندہ نہیں ہے اور بہاری بھی نہیں  ہے‘ ورنہ وہ آتا یہاں۔

بھائی رینجرز کہتی ہے کہ یہ  ملزم  بڑا خطرناک ہے‘ دہشت گردوں کے علاج  کرتا تھا اور ان کی کان میں یہ تاکید بھی کرتا تھا کہ بیٹا جا کر زرا دو چار اورمار دو۔ بڑے افسر نے تو یہ بھی بتایا کہ اس حوالے سے کسی مذہب، فرقے یا جماعت کا امتیاز نہیں کرتا تھا۔۔سب کا علاج وہ بھی رعایت میں ۔ میں نے  ہنستے ہوئے کہا۔اور ہاں اربوں روپے کی کرپشن کا بھی الزام ہے لیکن وہ اس عدالت میں نہیں۔

آف وائٹ شلوار قمیض اور اس کے اوپر واسکٹ اورہاتھ میں تسبحی دیکھ کر ہمارا دوست  مسکرایااور بولا‘ ابے!  یہ کیا حال بنایا اس نے ۔۔۔ابے کیا ہو گیا؟ میں مسکرایا  اور بولا اب اس کا یہی حلیہ ہوتا ہے بھائی۔

اچھا پہلے ملاقاتیں کیسی ہوتیں تھیں؟۔ کیسی ہوتیں کیامطلب ایک تو صاحب ٹائم نہیں دیتے تھے اور ایک دفعہ ٹائم دیا تو صاحب کچھ اتنے برہم تھے کہ نظراٹھا کر دیکھنا بھی ان کو کچھ برا لگ رہاتھا لیکن خیر ہے سمیع ہم تو ہم ہیں ایسا سوال داغا کہ ہڑبڑا کر بولا۔ یہ کیا بول رہے ہیں آپ؟۔

ہاں میں جانتا ہوں تیرا۔۔۔۔۔پن اچھا یہ بتا پھر جس کام سے گیا تھا وہ ہوا؟۔  نہیں یار بہت نخرے تھے صاحب کے۔

آیار! بات کرتے ہیں۔

نہیں یار رہنے دے۔

اس وقت دن برے ہیں آہ نہ لگ جائے۔

ابے کچھ نہیں ہوتا  ان کو کچھ نہیں ہوا تو ہمیں کیسے ہو کچھ ہو گا۔

اس کے بعد وہ بڑے بڑے قدم اور گردن ہلاتے ہوئے  پہنچ گیا صاحب کے سر پر۔

ڈاکٹر صاحب خیر ہے یہ ہاتھوں میں تسبحیح اور سر پر ٹوپی۔

ڈاکٹر نے بھی میری توقعات کے عین مطابق جواب دیا ہاں اللہ سے لو لگا لی ہے سیاست ویاست کچھ نہیں‘ تم بھی لگالو بیٹا بس وہی کار ساز ہے اور آیت کریمہ پڑھو۔

پھرڈاکٹر صاحب نے بالکل ایک اچھے مولوی کی طرح  یا گھر پرآنے والے قاری صاحب کی طرح شفقت سے  ہم کو آیت کریمہ پڑھایا۔

ہم بولے بس ڈاکٹر صاحب! بس آپ کی پریشانی ختم ہو جائے گی اور باہر آکریہی خبر چلا دی۔ وقت گزر گیا۔

یہ آیت کریمہ کا اثر تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی ماں کی دعائیں کہ پہلے ان کے پرانے دوستوں کو ان کی یاد آئی پھر ان کی ضمانت  کی درخواستیں منظور ہونا شروع ہوئیں اب جب  سیاسی تنظیم کےیہ رہنما رہا ہو رہے ہیں ۔تو سرکار کچھ بدلی بدلی نظر آتی ہے۔

اورسب کچھ پھر پہلے جیسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے اب ڈاکٹر صاحب سیاست بھی کر رہے ہیں  ان کا استقبال بھی ہورہا ہے، بھٹو کے نعرے وجن گے کے نعروں کی گونج میں ڈاکٹر صاحب وفاق اور چوہدری نثار جیسے طاقتور آدمی کو للکار بھی رہے ہیں۔

اب خان ملے گا تو  بولوں گا کہ بھائی اب جب ملنے جاؤ تو ماضی کی طرح ٹائم لے کرجانا اور انتظار بھی کرنا۔ اگر  کوئی ان صاحب کو ڈاکٹر عاصم سمجھ رہا ہے تو یہ اس کا مسئلہ ہے ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں