The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

زمہ داری لینا ہوگی

دنیاے کھیل میں سب سے زیادہ شوق سے کھیلے جانے والا کھیل کرکٹ ہے جسے دنیا بھر میں جنٹل مین گیم سے جانا جاتا ہے کیونکہ اس گیم کی سمجھ رکھنے والے صرف اچھے کھیل کو ترجیح دیتے ہیں ناکہ اپنی فیورٹ ٹیم اور اپنے فیورٹ کھلاڑی کو۔ کرکٹ کو دنیاے کھیل میں منفرد حیثیت اس لیے بھی حاصل ہے کہ یہ ایسا کھیل ہے جسکے بارے میں اخری لمحات میں بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا اور جب سے کم دورانیے مطلب ٹی 20 طرز کی کرکٹ کا آغاز ہوا تب سے اسکے شائقین میں مزید اضافہ ہوا ہے ،ان دنوں قومی کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش میں ہونے والے ایشا کپ ٹی 20 میں مصروف ہے۔ پہلی مرتبہ ہونے والے ٹی 20 ایشیا کپ میں پاکستان کے اعلاوہ متحدہ عرب امارات ، بھارت ، سری لنکا اور بنگلہ دیش شامل ہیں ۔ بنگلہ دیش میں ہونے والا ٹی 20 ایشیا کپ میں سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا میچ ٹورنامنٹ کا چوتھا میچ تھا جو کہ بنگلہ دیش کے شہر میرپور میں 27فروری کو بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلا گیا جس کا نتیجہ حسب روایت بھارت کے حق میں رہا۔ پاکستان کی روایت رہی ہے کہ آج تک پاکستان نے کسی بڑے ایونٹ میں بھارت کو شکست نہیں دی جو روایت آج بھی برقرار رہی میچ کے آغاز سے قبل دونوں ممالک کی طرف سے خوب طنز و مزاح کی بوچھاڑ کی گئی ء مگر میچ کے آغاز میں ہی پاکستان کی بری بلے بازی نے پاکستانی شائقین کرکٹ کو مایوسی اور بھارتی شائقین کرکٹ کو مزید حوصلہ اور ہمت ملی جب ماضی کی طرح ایک بار پھر پاکستان کا اوپننگ پئیر اور مڈل اور ٹاپ آرڈر بری طرح ناکام ہوا اور کوئی بھی بیٹسمین ڈبل فگر نہ بناسکا سواے اکا دکا کھلاڑی کے ، پاکستان کی جانب سے صرف سرفراز احمد واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے تھوڑی مزاحمت دکھائی مگر انکا ساتھ دینے والا کوئی نہ تھا بڑے بڑے برج الٹ گئے۔

تجربہ کار شاہد خان آفریدی ہوں یا شعیب ملک اور حفیظ کوئی بھی وکٹ پر ٹک نہ سکا۔ بھارتی کپتان مہیندر سنگھ دھونی کا ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ درست ثابت ہوا کچھ میرپور کی پچ نے کام دکھایا اور کچھ ہمارے کھلاڑیوں کی ٹیکنیکل غلطیاں تھیں جسکی وجہ سے ہم بھارتی نوجوان باولرز کے ہاتھوں اپنی غلطیوں کے باعث وکٹ گنواتے رہے اور 18ویں آورز میں صرف 83 رنز پر ڈھیر ہوگئے جو موجودہ دور کی تیزترین کرکٹ کا آسان ترین ہدف ہے۔ بھارتی بلے باز 83 رنز کے ہدف کے تعاقب میں تھوڑے محتاط نظر آے اور کچھ پاکستانی باولر محمد عامر کا دباو تھا جسکا محمد عامر نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور 4 آورز میں 18رنز دیکر 3 وکٹ لے اڑے ، اور محمد سمیع نے 2وکٹیں لیں ، بھارت کی جانب سے ویرات کوہلی کامیاب بیٹسمین رہے مگر نصف سینچری مکمل کرنے میں ناکام رہے اور 49 رنز پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ بھارت نے 83رنز کا آسان ہدف 16ویں آور میں 5 وکٹ کے نقصان پر پورا کرکے باآسانی ایشیا کپ ٹی 20 کا ایک اہم میچ جیت لیا۔ کسی بھی میچ یا مقابلے میں جیت اور ہار ہوتی ہے مگر جب بات پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کی ہوتی ہے تو نہ صرف شائقین کرکٹ کواسپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرنا چاہیے بلکہ کھلاڑیوں اور ٹیم کو بھی ٹیم اسپریٹ کا مظاہرہ کرنا چاہیے جوکہ دیکھنے اور کھیلنے والوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں 7 ٹی 20 میچز کھیلے ہیں جس میں سے 6 میں شکست کھائی اور صرف ایک میچ میں جیت پاکستان کا مقدر بنی۔

پاک بھارت میچ کے بعد کرکٹ ختم نہیں ہوجاتی مگر جب ٹیم اور کھلاڑی تواتر کے ساتھ وہی غلطیاں دہراتے رہیں تو شکست ہی اس ٹیم کا مقدر بنتی ہے۔ ایشیا کپ ٹی 20 میں پاکستان کے مزید 3 میچز باقی ہیں مگر جب تک ہماری ٹیم کا ہر کھلاڑی اپنی زمہ داری نہیں سمجھے گا تب تک نتیجہ تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اس وقت پاکستان ٹیم میں احساس زمہ داری کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کی تسلسل کے ساتھ ٹی 20 میچز میں بری پرفارمنس سے پاکستان ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی اور چیرمین بورڈ شہریار خان تو مطمئن ہوسکتے ہیں مگر شائقین کرکٹ بالکل مطمئن نہیں۔ ہمیں دیگر کھلاڑیوں کی ٹیم پرفارمنس سے سبق سیکھنا چاہیے جیسے بھارت کے ویرات کوہلی ، روہیت شرما، اسٹریلیا کے اسٹیواسمتھ ، ڈیوڈ وارنر ، اسی طرح ساوتھ آفریقہ کے ہاشم آملہ ، اے بی ڈی ویلیئرز اور دیگر کھلاڑی ہیں جوکہ تسلسل کے ساتھ اپنی ٹیم کے لیے مشکل سے مشکل وقت میں پرفارمنس دیتے ہیں ۔

پاکستان ٹیم کو ایشیا کپ کے بعد مارچ میں ہونے والے ورلڈ ٹی 20 میں شرکت کے لیے بھارت جانا ہے جس کا آغاز 8 مارچ سے ہونا ہے۔ مگر ایشیا کپ اور اس سے قبل ٹی 20 میچز میں پاکستانی ٹیم کی پرفارمنس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے ہماری کوئی تیاری نہیں ہے جہاں ہمیں دنیا کی بہترین ٹیموں کے مدمقابل ہونا ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ اور کپتان جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں جو جسکی فیلڈ ہے وہ اپنی فیلڈ میں اپنا 100 فیصد دکھانے کی کوشش کریں تاکہ میچ دیکھنے والوں کو بھی کھلاڑیوں کی محنت نظر آے۔

Print Friendly, PDF & Email