The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

مہاجرصوبہ یا کراچی صوبہ

کراچی کے ضمنی انتخابات میں مہاجر صوبے یا کراچی صوبے  کی بازگشت نے سندھ کی قوم پرست جماعتوں میں ہلچل پیدا کردی ہے اوراس ضمن میں کوئی بھی ایسی تحریک چل گئی جو صوبے کو تقسیم  کرنے سے متعلق ہوئی تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جو سرجیکل آپریشن  کے ذریعے امن بحال کیا گیا ہے وہ ایک بار پھر خطر ےمیں پڑجائے گا۔ کراچی کے شہریوں کا شکوہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ  ریونیو فراہم کرنے والے شہر کے مکین ہیں, اس کے باوجود کراچی کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے اور  وہ تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور یہی نہیں  دیہی سندھ سے اکثریت حاصل کرنے والی جماعت  کا کراچی کے وسائل پرمکمل اختیاررکھنا اوربلدیاتی انتخابات کے باوجود ملک بھر کے دیگرحصوں کی طرح یہاں بھی اقتدارکی عدم منتقلی نے احساس محرومی میں اضافہ کردیا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کے بعد کراچی کے ضمنی انتخابات کے اندرکیمپس اورمہم کے ذریعے نظر آنے والی
جماعت پاسبان نے بھی ووٹروں کو متوجہ کرنے کے لیے کراچی صوبے کا نعرہ لگایا ہے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ہمیشہ کی طرح کراچی کے شہریوں کو ایک پھرغیرمحسوس اندازمیں مہاجرصوبہ جبکہ ببانگ دہل میں 20 صوبوں کے مطالبے کیے جارہے ہیں۔ ایم کیو ایم کا یہ طرز عمل نیا نہیں ہے، ہرانتخابات سے قبل تقاریر میں ان کی جانب سے یہ نعرے بلند کئے جارہے ہیں تاہم اس باردیگرجماعتوں کی جانب سے یہ صدالگنا اس بات کا عکاس ہے کہ جلد یا بدیرمہاجر صوبہ یا کراچی کو دیہی سندھ سے الگ کرنے کا مطالبہ  کسی نہ کسی شکل میں شدت پکڑے گا جوکہ مشکلات کا شکارسیاسی جماعت کا آخری حربہ بھی ہوسکتا ہے۔  اور ایسی صورت میں قوم پرست جماعتوں اورپیپلز پارٹی کا سخت گیررویہ کسی بھی سانحے کو جنم دے سکتا ہے کیوں کہ آزاد نمائندوں اور شہری سندھ کی روایتی سیاست کرنے والوں کی  جانب سے یہ نعرہ بلند کرنا یہ ثابت کررہا ہے کہ اردو بولنے والے علاقوں میں اس حوالے سے ضرورمثبت رائے موجود ہے۔

پاسبان کے  پی ایس 106 سے امیدوار جواد شیرازی کہتے ہیں کہ ’’کراچی  پاکستان کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے تاہم اس کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جارہا ہے،  بیمار کراچی کو صحت یاب بنانا ہے تو کرچی صوبہ بنانا ضروری ہے تاکہ وسائل کراچی کے مقامی نمائندوں کو منتقل ہوں  اور وہ اپنے مسائل خود حل کریں‘‘۔
دوسری جانب سماجی رابطہ کار ویب سائٹ کی مدد سے ایم کیو ایم بھی اپنے ووٹرز کو یہی پیغام دے رہی  ہے تاکہ وہ اپنے ووٹ بینک کو بچا سکے جو ان دنوں الزمات کے بھنور میں پھنسے نظر آرہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ناراض اراکین تو انتہائی سخت موقف بھی اختیار کرتے نظر آرہے ہیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود  کراچی کی تقسیم آسان نہیں ایسا ہوا تو لسانی و گروہی فسادات پھوٹنے کا بھی اندیشہ ہے۔

یہاں سرائیکی ،ہزارہ اور پھوٹو ہارکے علاقوں والا معاملہ نہیں ہے بلکہ میٹرو پولیٹن اور تجارتی مرکز ہونے کے باعث یہاں کئی لسانی اکائیاں رہتی ہیں اوراعدادوشمارمستند اور صیح طور پر نکالے گئے تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ بات سامنے آئے کہ اردو بولنے والے اکژیت کے بجائے اہم لسانی اکائی ثابت ہوں- تاہم اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کراچی اورصوبہ سندھ کے مسائل کو حل کرنے میں سائیں سرکاربری طرح ناکام ہوچکی ہے  اور پاکستان میں عملی طور پرصوبوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email