The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

الن کلن کی باتیں – وزیراعظم صاحب کو ہوش آگیا

’’سنا ہے وزیر اعظم صاحب کو ہوش آگیا ہے؟‘‘
’’ نہ صرف ہوش آگیا ہے بلکہ وہ اب گھر بھی لوٹ آئے ہیں؟‘‘
’’وزیر اعظم صاحب کو تو ہوش آگیا ،قوم کو کب ہوش آئے گا؟‘‘
’’وزیراعظم صاحب نے تو باہر سے آپریشن کروایا تھا قوم کا بھی آپریشن کروانا پڑے گا۔‘‘
’’آپریشن ضرب عضب ہوا تو ہے ۔‘‘
’’ لیکن یہ آپریشن پاکستانی کررہے ہیں، میرا اشارہ غیر ملکی آپریشن کی طرف ہے۔‘‘
’’ یہ تم اشارے مت کیا کرو، مجھے اشارے سمجھ میں نہیں آتے۔‘‘
’’ یہی تو مسئلہ ہے اشاروں کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔ ‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘
’’سیدھی سی بات ہے سرخ بتی پر رکنا ہے اور سبز بتی پر نکلنا ہے ۔ یہ اشارے ہمارے لیے ہی تو ہیں۔‘‘
’’ مجھے ابھی اشارے نہیں سمجھنے ۔۔۔ رمضان آگیا ہے۔‘‘
’’ وہ تو میرے پاس بھی باقاعدگی سے آتا ہے راشن پانی دے کر رخصت کرو۔ ‘‘
’’ وہ راشن پانی لینے نہیں آیا ہمیں جگانے آیا ہے۔‘‘
’’رمضان کا کام ہی یہی ہے۔۔۔ چوکیدار جو ہوا ہمارے محلہ کا۔ ‘‘
’’ میں چوکیدار رمضان کی بات نہیں کررہا میں ماہ رمضان کی بات کررہا ہوں۔‘‘
’’ تو کھل کر کہو ناں یہ اشاروں میں تم نے بھی بات شروع کر دی۔‘‘
’’ میں نے تو کوئی اشارہ نہیں کیا ، تم خود ہی مطلب غلط لے لیتے ہو۔‘‘
’’ مطلب کی بات کرو ، ماہ رمضان آگیا ہے تو اب کیا ہونا چاہیے؟‘‘
’’ کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ صرف لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہونا چاہیے یا پھر کم از کم سحر و افطارا ور تراویح میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے ۔ اتنا احترام تو زرداری نے بھی کیا تھا ، یہ تو پھر خاندانی شریف ہیں۔‘‘
’’ وزیر اعظم صاحب ملک میں نہیں ورنہ وہ ضرور اس بات کا سختی سے نوٹس لیتے۔‘‘
’’ ان کے نوٹس سے ہی ملک چل رہا ہے، ﷲ ان کو لمبی عمر دے، اگر یہ نہیں ہوں گے تو کیا ملک نہیں چلے گا۔‘‘
’’ یہ بات قوم جانتی ہے اسی لیے وہ ان کو ہی ووٹ دیتی ہے۔ ‘‘
’’ لیکن اس سے پہلے کتنے لوگ اس دنیا سے چلے گئے جن کا یہ خیال تھا کہ ان کے بغیر یہ دنیا نہیں چل سکتی۔‘‘
’’یہ بات قوم ماننے کو تیار نہیں ۔ تم بس مسجد میں جا کرﷲ ﷲ کرو ، ہمیں اپنا کام کرنے دو۔‘‘
’’ تو مسجد میں جب ﷲ پوچھے گا کہ تم سود لیتے ہو ، میرے خلاف جنگ کرتے ہو تو میں کیا جواب دوں گا؟‘‘
’’ کہہ دینا میں توسود نہیں لینا چاہتا لیکن شریف صاحب نے کہا تھا کہ اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔‘‘
’’اچھا اگر ﷲ نے پوچھ لیا کہ تم میرے بندہ ہو یا شریف کے؟تو بولو پھر کیا جواب ہوگا؟‘‘
’’ سیاسی باتیں مت کرو، مسجد میں جا کر بس ﷲ ﷲ کرو، ﷲ کچھ نہیں پوچھے گا۔‘‘
’’ ٹھیک کہا، ﷲ واقعی نہیں پوچھے گا۔ شریف کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، سود کے بغیرملک نہیں چل سکتاتو پھرکیا اسلام کے بغیر ملک چل سکتا ہے؟‘‘
’’دیکھ نہیں رہے اتنے سالوں سے چل تو رہا ہے ۔‘‘
’’ٹھیک کہا، بالکل اسی طرح جیسے بغیر وضو کے نماز ہوجاتی ہے۔اگر یقین نہیں تو پڑھ کے دیکھ لو۔‘‘

Print Friendly, PDF & Email