The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

الن کلن کی باتیں: اندھیر نگری چوپٹ راج

’’قوم کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے۔جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘
’’یہ کس کا سیاسی بیان ہے؟‘‘
’’ یہ سیاسی بیان نہیں ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے اندھیر مچا رکھی ہے۔‘‘
’’تو یوں کہو ناں کہ اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔‘‘
’’ اب اس قوم کو جاگنا ہی ہوگا۔‘‘
’’ وہی تو کررہے ہیں یہ کے الیکٹرک والے۔‘‘
’’ جس قوم کو کوئی نہیں جگا سکا اب اسے یہ کے الیکٹرک جگائے گی۔‘‘
’’ اب تو جاگنا ہی پڑے گا جب گرمی میں رات بھر بجلی نہیں آئے گی تو۔‘‘
’’ جب سے رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہوا ہے انہوں نے تو اندھیر ہی مچادی ہے۔نہ سحری دیکھتے ہیں نہ افطار اور نہ ہی تراویح۔ ‘‘
’’ حکومت اس بات کا نوٹس کیوں نہیں لیتی؟‘‘
’’ حکومت کیا نوٹس لے گی اس کے تو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔‘‘
’’تو پھر یہ ساری سیاسی جماعتیں کدھر ہے اس مسئلہ پر عوام کی نمائندگی کیوں نہیں کرتیں؟‘‘
’’ عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہر مسئلہ کو سیاسی سمجھ لیتے ہیں جبکہ یہ عوامی مسئلہ تھا۔ اس پر تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر آواز بلند کرنی چاہیے تھی۔‘‘
’’لیکن اس کا ٹھیکہ صرف جماعت اسلامی والوں کے پاس ہے۔‘‘
’’ یہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے تو جمع ہوجاتی ہیں لیکن عوامی مسائل پر کیوں جمع نہیں ہوتیں۔‘‘
’’سیاسی جماعتیں تو تب جمع ہوں جب یہ عوام جمع ہو۔ عوام اپنے حق کے لیے بھی گھر سے باہر نہیں نکلتی۔‘‘
’’شاہراہ فیصل پر پرامن دھرنے میں بھی چند سو لوگ جمع ہوئے۔‘‘
’’ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ گھر بیٹھا رہے اور مسئلہ حل ہوجائے۔ کسی کو کچھ کرنا نہ پڑے۔‘‘
’’اگر دعاؤں سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو اس رمضان پر دعا سے کام چلا لیتے ہیں ۔ ‘‘
’’ یہ مسئلہ دعا سے نہیں دوا سے حل ہوگا۔‘‘
’’ کیا ہے اس مسئلہ کی دوا؟‘‘
’’وہی جس کا یہ شہر اور عوام عادی ہیں۔ جلاؤ گھیراؤ شروع ہو گیا ہے۔‘‘
’’ اس طرح تو بہت نقصان ہوگا۔‘‘
’’ کیا کریں جب تک کسی کی املاک کو نقصان نہ پہنچے ، کسی کا سر نہ پھٹے ، ان ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے لوگوں کو کوئی بات سمجھ ہی نہیں آتی۔‘‘
’’اگر یہ لوگ باہر نہیں نکلے تو ویسے ہی مارے جائیں گے ، یاد نہیں پچھلے سال کتنے لوگ مارے گئے تھے ،اسی رمضان کے مہینہ میں۔‘‘
’’ ہاں اگر خدانخواستہ گرمی میں اضافہ ہوا تو یہی کچھ ہوگا۔ اس لوڈشیڈنگ میں گرمی کو جھیلنا بہت مشکل ہے۔‘‘
’’ تو پھر کیا خیال ہے احتجاج کے بارے میں۔‘‘
’’ وہ میں ذرا جرنیٹر ٹھیک کروالوں‘ صبح سے خراب ہے۔اس گرمی میں اب کون باہر نکلے؟‘‘
’’پھر ایک ہی حل ہے سوشل میڈیا پر احتجاجی اسٹیٹس اپ ڈیٹ کردیتا ہوں۔‘‘
’’ہاں یہ ٹھیک ہے… لیکن بجلی آجائے تب!!‘‘


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں