الن کلن کی باتیں: ہماری سنتا کون ہے؟

”کیا بات ہے یہ تم اتنا چپ کیوں ہو؟“
” بولنا چاہتا ہوں لیکن زبان ساتھ نہیں دیتی۔“
”جب تک بولو گے نہیں پتا کیسے چلے گا؟“
”ضمیر مر گیا ہے اسی لیے خاموش ہوں۔“
”کس نے مارا ہے ضمیر کو، کوئی بریکنگ نیوز بھی نہیں آئی۔“
”اپنی موت آپ مر گیا ہے ، بے چارہ ہر وقت انسانیت کا درس دیتا تھا۔اسے بہت سمجھایا کہ مسلمان‘ انسان نہیں ہیں۔“
” ضمیر ایسے نہیں مرسکتا، ضرور یہ کسی کی سازش ہے۔پتا تو کرو۔“
” پتا کرکے کرنا بھی کیا ہے؟ ہم عید پر جانور ذبح کرتے رہے اور برما میں جانوروں نے انسان ذبح کردیئے۔ سوشل میڈیا پرروہنگیا کے مسلمانوں پر مظالم کی داستان دیکھ کر زبان گنگ ہو گئی ہے۔“
”سوشل میڈیا پر تو پتا نہیں کیا کیا چلتا رہتا ہے ، پتا نہیں کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط؟“
” جب سے نائن الیون ہوا ہے سب کو اپنی اپنی پڑی ہے، کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط اب وہی بتاتے ہیں۔“
”جب ہمیں اپنا پتا نہیں تو کسی کا کیا پتا کریں گے؟“
” دہشت گردی کے خلاف جنگ نے جہاد پر بھی پابندی لگادی ہے۔ورنہ ہم نے تو سویت یونین جیسی سپر پاور کو بھی گھر بھیج دیا تھا۔“
”جہاد کی بات مت کرو ، جہاد کو دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اگر کچھ اورکرسکتے ہو تو وہ بتاؤ؟“
” جہاد نہیں کرسکتے تو کم از کم برما جیسے چھوٹے ملک کے سفیر کو تو اپنے ملک سے نکال سکتے ہیں اور اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرسکتے ہیں۔“
”لیکن جسے دنیا نے نوبل انعام دیا ہے اس سے آپ سفارتی تعلقات کیسے منقطع کرسکتے ہیں؟“
”تو پھر اور کیا کرسکتے ہیں؟“
”احتجاجی جلسے ،جلوس اورریلیاں تو منعقد کرسکتے ہیں۔“
”لیکن اس سے عوام کو تکلیف ہوگی، ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔“
” اچھا تو پھر کیا کرسکتے ہیں؟“
”یہ سب سوشل میڈیا سے خبریں آرہی ہیں اور ہمیں بھی سوشل میڈیا پر ہی اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دینا چاہیے۔پٹیشن دائر کرنا چاہیے کہ نوبل ایوارڈواپس لیا جائے۔“
” لیکن اس سے تو ان کی کوئی مدد نہیں ہوسکے گی۔ ان کا قتل و خون اسی طرح ہوتا رہے گا اور وہ بنگلہ دیش کے بارڈر پر جا کر بارودی سرنگ کا نشانہ بنتے رہےں گے۔ “
” ہم کسی کی مدد کربھی نہیں سکتے کیونکہ ہم دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ ہیں۔ہم سے ڈومور کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔“
” یہ ڈومور کا مطلب کیا ہے؟“
” جتنے لوگ آپ نے اب تک مارے ہیں وہ کم ہیں مزید ماریں۔“
”لیکن ان کو یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ جتنے لوگوں کو آپ مارو گے اتنے ہی دہشت گرد پیدا ہوں گے۔“
” پتا ہے اور وہ یہی چاہتے بھی ہیں کہ دہشت گرد پیدا ہوں تاکہ ان کو قبضہ جمانے کا موقع ملے۔“
”عراق اور افغانستان پر تو قبضہ جما ہی لیا ہے کہیں برما پر بھی یہی کھیل تو نہیں کھیلا جانے والا؟“
”تم خاموش ہی رہو تو اچھا ہے ورنہ خاموش کر دیے جاؤ گے۔“
” بس تم ہی بولتے جاؤ‘ ہماری کون سنتا ہے؟“

 

میر شاہد حسین: میر شاہد حسین نے اپنے قلمی سفر کا آغاز بچوں کے ایک معروف رسالے سے 1995ءمیں کیا بعد ازاں آپ اسی رسالے کی ادارت سے منسلک ہوئے اور پھر اس کے مدیر بھی رہے، آپ کو بچوں کے ادب میں کئی ایوارڈزسے بھی نوازا گیا جن میں نیشنل بک فا ؤنڈیشن بھی شامل ہے