The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

کراچی میں کالعدم تنظیموں کی آزادانہ سرگرمیاں

شہر کراچی میں کالعدم تنظیموں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت تشویشناک بات ہے جوکہ آگے چل کر پورے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے، ماہ رمضان سے قبل سندھ بھر میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ  کی جانب سے کھلےعام پورے سندھ میں ریلیاں نکالی گئیں سیمینار منعقد کیے گئے اور ماہ رمضان میں کھلے عام جہاد کے نام پر چندہ جمع کیا جارہا ہے۔

کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوئی جسے نجی نیوز چینلز کی جانب سے بھی نشر کیا گیا جس میں صاف دیکھا اور سنا جاسکتا ہے کہ کس طرح کالعدم تنظیم کی جانب سے جہاد کے نام پر چندہ جمع کیا جارہا ہے اور جہادی عوام سے بنا کسی رسید کے فنڈ جمع کررہے ہیں اور عوام میں دوسرے ملک کے لیے نفرت پرابھار رہے ہیں جوکہ انتہا پسندی کے فروغ کے مترادف ہے۔

شہرقائد میں سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاونڈیشن کے لیے زکٰوۃ فطرہ جمع کرنے والوں کو تو گرفتار کیا جارہا ہے مگر دوسری جانب دیگر سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر انتہاپسند کالعدم تنظیموں کو چندہ اور فنڈ جمع کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ کراچی آپریشن جرائم پیشہ عناصراور کالعدم تنظیموں کے خلاف نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کے خلاف ہورہا ہے۔

حالانکہ ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے نے ملک میں ہر قومی سانحہ پر افواج پاکستان کے ساتھ مل کر انسانیت کی خدمت کی ہے مگر اس کے باوجود اس کے لیے زکٰوۃ فطرہ جمع کرنے پر غیراعلانیہ پابندی سراسر زیادتی ہے۔

سبط جعفر صاحب ، سانحہ صفورا گوٹھ میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں 45سے زائد افراد کی ہلاکت ، شکیل اوج ، پروین رحمان ، سبین محمود ، خرم زکی ، امجد صابری اور دیگر کے قتل کی زمہ داری انتہاپسندوں اور دہشتگردوں کی جانب سے قبول کی گئی مگر اس کے باوجود ان سے منسلک لوگوں سے پوچھ گچھ نہ کرنا سمجھ سے بالاترہے۔

کراچی میں آپریشن کے باوجود تین سالوں میں سینکڑوں معصوم اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں مگر ہم آج بھی وہی پر کھڑے ہیں جہاں پہلے کھڑے تھے جس کی سب سے بڑی وجہ اصل مجرموں کو کھلی آزادی دینا ہے۔ شہر قائد میں جاری آپریشن اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک انتہا پسند عناصر اور ان کی مالی معاونت کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہ کی جائے۔

شہر قائد اور ملک میں امن و امان کو بہتر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپریشن کا دائرہ کار ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا جائے اور ایسے لوگوں کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے جو انتہاپسندی اور جہادیوں کی صنعتیں لگاکر بیٹھے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email