The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

الن کلن کی باتیں: بدلتا موسم

’’کیا بات ہے ، آج کل بہت چپ چپ ہو؟‘‘
’’کیا بتاؤں کوئی بھی چیز قابل بھروسہ جو نہیں رہی آج کل۔‘‘
’’ آپ کا بھروسہ کون توڑ سکتاہے، جو کسی پر بھروسہ ہی نہیں کرتا۔‘‘
’’ اب ایسی بھی کوئی بات نہیں، قائم علی شاہ کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ ہمیشہ اپنی سیٹ پر قائم ہی رہے گا لیکن۔۔۔‘‘
’’لیکن قائم علی شاہ کے جاتے ہی کسی کی مراد بھر آئی ہے ۔‘‘
’’ ایک شاہ کے بعد دوسرے شاہ نے جگہ لے لی ہے۔گویا شاہ کو مارے شاہ مدار۔‘‘
’’مارے کو مارے شاہ مدار، تو سنا تھا یہ شاہ کو مارے شاہ مدار پہلی بار سنا ہے۔‘‘
’’اب پتا نہیں قائم علی شاہ کے جاتے ہمیں کیا کیا پہلی بار سننا پڑے گا۔‘‘
’’تم فکر نہ کرو ، ابھی تو بہت لوگ ہیں جو اپنی سیٹ پر قائم و دائم ہیں جیسے لاہور کے آسمان پر اڑتا شہباز اور کراچی کا ہر دور میں راج کرنے والا عشرت جس کا نام گنیر بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام آنا چاہیے۔‘‘
’’ وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن مجھے فکر کھائے جا رہی ہے بدلتے موسم کی۔ ‘‘
’’ہاں موسم تو واقعی بہت تیزی سے بدل رہا ہے،بارش نے تو جیسے پورے ملک میں جھل تھل کرکے رکھ دی ہے۔‘‘
’’ لیکن کراچی والے پھر بھی بارش کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔‘‘
’’ کراچی میں بارش ہوجاتی تو شاید دودھ کے دھلے بھی باہر آجاتے ۔‘‘
’’ لیکن کراچی کے موسم نے تو کئی ایک کی امیدوں پر اوس ڈال دی ہے۔ ‘‘
’’واقعی بارش ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی کی امیدوں پر اوس پڑ رہی ہو۔‘‘
’’لیکن ایک بات تو ہے کہ کراچی میں برسات نہ ہونے کی وجہ سے برساتی مینڈک بھی باہر نہیں نکل رہے۔‘‘
’’وہ بھلا کیسے باہر نکلیں جب اتنی بڑی تعداد میں کتوں کی ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہو۔‘‘
’’ کراچی میں کتوں کی تعداد میں جو اتنا اضافہ جو گیا تھا ، جدھر دیکھو سڑک ، چوک ، چوراہے پر آزادانہ منڈلاتے پھر رہے تھے۔‘‘
’’اور تو اور آئے روز کاٹنے سے بھی باز نہیں آتے تھے۔‘‘
’’ لیکن میں پھر بھی فکر مند ہوں کیونکہ میرا ٹومی کئی دن سے لاپتہ ہے ۔‘‘
’’ دیکھ لو وہ کسی پارٹی میں تو نہیں نکل گیا۔ آج کل پارٹیاں بہت ہو رہی ہیں۔کسی پارٹی میں کھانے کے لیے نہ گھس گیا ہو۔‘‘
’’ میرا ٹومی ایسا نہیں ہوسکتا، وہ بہت قابل بھروسہ تھا۔مجھے تو لگتا ہے کوئی اسے پکڑ کر لے گیا ہے۔‘‘
’’کیا بات کرتے ہو۔۔۔ پہلے پارٹیوں میں کتے پیٹ بھرنے کو پہنچ جاتے تھے لیکن اب تو پارٹیوں میں کتوں سے ہی۔۔۔‘‘
’’اخ تھو۔۔۔ گدھے اور کتے کا گوشت کھائے گی یہ قوم۔۔۔اخ تھو!!‘‘
’’حرام کھاتے ہوئے تو کبھی نہیں تھوکا۔۔۔ پھر فکر کس بات کی؟‘‘
’’ ہائے میرا ٹومی۔۔۔ پتا نہیں کس حال میں ہوگا؟‘‘

Print Friendly, PDF & Email