The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
bailarinas de la hora pico Britney Shannon barely keeping whole thing in her throat Nicole Nix obtient saucissonner par un russe mec sur une table
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle
istanbul masaj salonuistanbul masaj salonuhttp://www.escortperl.com/Gaziantep escortDenizli escortAdana escortHatay escortAydın escortizmir escortAnkara escortAntalya escortBursa escortistanbul escortKocaeli escortKonya escortMuğla escortMalatya escortKayseri escortMersin escortSamsun escortSinop escortTekirdağ escortEskişehir escortYalova escortRize escortAmasya escortBalıkesir escortÇanakkale escortBolu escortErzincan escort

پاکستان ایک ذمہ دارجوہری ریاست

انسان کے معاشرتی حیواں ہونے اور پھر معاشرے میں اسکے اپنے جیسے انسانوں کے مفادات سے ٹکرانے کی وجہ سے کئی تنازعات جنم لیتے ہیں ۔مختلف ممالک کا حال بھی ایسا ہی ہے جن کے مفادات بھی چونکہ ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں اس لئے بھی ایک ملک کو دوسرے جارح ملک سے تحفظ کے لئے اپنی دفاعی پالیسی کو مضبوط بنانا پڑتا ہے ۔

پاکستان کے اٹیمی پروگرام کی بات کریں تو انیس سو چوراسی میں ہی سابق صدر جنرل ضیا الحق کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مطلع کر دیا تھا کہ اٹیمی صلاحیت کے حوالے سے تمام کولڈ ٹیسٹ کامیاب ہو چکے ہیں اور اگر حکومت فیصلہ کرے تو صرف دس دن میں ہی پاکستان باقاعدہ طور پر اٹیمی دھماکے کر سکتا ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے ایٹمی پروگرام کو کیوں کر اتنے تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا چاہتا ہے ؟تو پرامن اٹیمی توانائی کا حصول اور پھر اسے تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا پاکستان کا بطور ایک آزاد اور ذمہ دار ریاست ایک اہم حق ہے ۔

پاکستان کی جوہری توانائی یہاں بہت سے شعبوں میں استعمال ہو رہی ہے جیسے کہ ۱۸ ہسپتالوں میں ۸۰ فیصد کنیسر کے مریضوں کے علاج کے لئے جوہری ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے ۔ ۲۰۱۸ تک پاک چین اقتصادی راہداری اور دیگر توانائی کے منصوبوں سے دس ہزار میگا واٹ کی فاضل بجلی بھی پاکستان کو ملے گی اور آئندہ ۳۵ سال میں مجموعی طور پر ساٹھ  ہزار میگا واٹ بجلی جوہری توانائی سے حاصل کی جائے گی ۔

پاکستان کو ہم ایک ذمہ دار جوہری ریاست کہہ سکتے ہیں کیونکہ پاکستان نے کبھی بھی علاقے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کے لئے پہل نہیں کی ہاں لیکن بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب ضرور دیا ۔ اگر ہم دیکھیں بھی تو پاکستان کا اپنی ایٹمی قوت میں اضافہ کرنا اسلئے بھی ناگزیر ہے کہ بھارت پاکستان میں ہمیشہ دراندازی کرتا رہا ہے ۔ دونوں ممالک میں مسئلہ کشمیر ایک اہم تنازعہ رہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ امر بھی ناقابل  فراموش ہے کہ بھارت اول دن سے ہی پاکستان کے قیام کو قبول نہیں کر رہا ہے ۔

انگریزی جریدے واشگنٹن پوسٹ کی رواں سال کی ایک خبر کے مطابق انڈیا کے پاس ۱۰۰ نیو کلئیر وار ہیڈز ہیں جبکہ پاکستان سالانہ بیس وار ہیڈز بنا سکتا ہے او رموجودہ تعدار ۱۲۰ وار ہیڈز ہے ۔ پاکستان اس سب کے نتیجے میں دنیا کی تیسری بڑی اٹیمی قوت بن سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ  بھارت کی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے ۲۸ مئی ۱۹۹۸کو چاغی کےعلاقے میں طاقت کا توازن قائم رکھنے کے لئے پانچ اٹیمی دھماکے کئے تھے ۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں