لنڈا بازار – سفید پوشی کا بھرم یا عالمی کاروبار

اس سال سردی بہت شدید تھی ، مری میں برفباری کی وجہ سے جڑواں شہروں میں موسم میں کافی تبدیلی دیکھی جا سکتی تھی ۔میں اپنے نانا ابا کے ساتھ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر لنڈے کی دکانوں پر موجود افراد کو دیکھ رہی تھی ، جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد سوئیٹر ، موزے ، ٹوپیاں اور اسی طرح کے دیگر استعمال شدہ ملبوسات خرید رہی تھی ۔

نانا ابا کے ایک دوست بھی ہمیں وہیں مل گئے وہ بھی اپنے لئے کسی اچھے اور مناسب کوٹ کی تلاش میں تھے ، میں اس وقت بہت چھوٹی تھی لیکن مجھے یاد ہے کہ میں لنڈے کی ریڑھیوں سے شرم کی وجہ سے پیچھے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہی تھی ۔

اصل میں مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی ہمیں دیکھ لے گا تو کتنی شرمندگی ہو گی کہ ہم یہاں سے گرم کپڑے لیتے ہیں ۔ خیر جب ہم گھر واپس آئے تو امی اور نانا ابا نے مجھے سمجھایا کہ بیٹا لنڈا بازار سے کوئی چیز خریدنا کوئی غلط بات نہیں ، ہمارے اردگرد بہت سے لوگ امیر نہیں ہوتے ، وہ اتنے مہنگے سوئیٹر نہیں خرید سکتے اس لیے یہاں سے مناسب قیمت پر گرم کپڑے خرید کر استعمال سے قبل گھر آکر دھو لیتے ہیں ۔

مزے کی بات تو یہ بھی ہے کہ اب میں جب کئی خواتین وحضرات کو لنڈے کی دکانوں اور سٹالوں پر سے چیزیں لیتی دیکھتی ہوں تو بچپن کی تمام باتیں یاد آجاتی ہیں ، واقعی اب میں سوچتی ہوں کہ لنڈا پہننے میں شرم کیوں ؟ کیونکہ یہاں بہت سے پوش افراد بھی آتے ہیں ۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال برطانیہ میں ہزاروں لوگ اپنے استعمال شدہ ملبوسات خیرات میں دے دیتے ہیں ، یہ خیرات میں دئیے ہوئے کپڑے اصل میں خیرات کی بجائے قیمتا ًفروخت ہونے لگتے ہیں ۔

ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق خیرات میں دئیے ہوئے کپڑے دو ارب اسی کروڑ پاؤنڈز کی ایک ایسی تجارت میں استعمال کئے جاتے ہیں جس کا دائرہ کارکافی ممالک میں پھیلا ہوا ہے ، باہر کے ممالک میں جو لوگ کپڑے خیرات کرتے ہیں انھیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ فروخت بھی ہو رہے ہیں ۔

جہاں تک ان ملبوسات کو استعمال کرنے کا تعلق ہے تو اس کی بہت سی وجوہات ہیں ایک تو ٹھنڈ کی شدت میں اضافے کے بعد لنڈے کے کپڑوں کی خرید و فروخت بڑھ جاتی ہے اور ریڑھیوں پر پڑا ہوا مال بھی با آسانی بکنے لگتا ہے ۔ ایک سوئیٹر جس کی قیمت سو روپے تک ہونی چاہیے وہ تین تین سو روپے میں ملتا ہے ۔

غربت کے باعث بھی ہمارے ملک کے عوام کی بڑی تعداد بھی ان ملبوسات پر انحصار کرتی ہیں لیکن جدید فیشن کے تقاضوں کے مطابق ہائی اور ماڈرن کلاس بھی یہاں خریداری کرتی دکھائی دیتی ہے ، ان ملبوسات میں اپنی مرضی کے مطابق تبدیلی بھی کر لی جاتی ہے ۔ لنڈے کے یہ ملبوسات سوئیٹر اور دیگر اشیا یورپین ممالک سے خریدی جاتی ہیں ، برطانیہ میں ہر سال صارفین دس لاکھ ٹن سے زیادہ وزنی ملبوسات پھینک دیتے ہیں ۔ وہ ممالک جن سے یہ مال درآمد کیا جاتا ہے ان میں انگولا ، امریکا ، کینیڈا ، ، چلی ، گوئٹے مالا ، اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں ۔

لاہور، کراچی ، ملتان اور راولپنڈی میں بہت عمدہ لنڈا دستیاب ہے ، فٹ پاتھ کے لنڈے سے بہتر ہے کہ آپ ہینگر میں لٹکا ہوا سوئٹیر یا گرم کپڑے خریدیں کیونکہ سامنے لگے ہونے کی وجہ سے ان کے نقائص کا بھی آسانی سے علم ہو جاتا ہے ۔ یعنی رنگ میں فرق یا سوراخ اور بر وغیرہ ۔

پاک پتن میں دارلامان روڈ ، راولپنڈی میں جامع مسجد روڈ اور صد ر کنیٹ نزد ریلوے اسٹیشن لنڈے کے ملبوسات کی وجہ سے بہت مشہور ہیں ۔ اور یہاں پر بکنے والا لنڈا باقی جگہوں کے مقابلے میں کافی مہنگا بھی ہوتا ہے یہاں خواتین کے لئے ہینڈ بیگز اور جوتے بھی دستیاب ہیں اور یہ عین فیشن کے تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں ۔

کوشش کریں کہ جب بھی آپ لنڈے کے ملبوسات خریدنے جائیں تو دن کے اوقات کا انتخاب کریں تاکہ اچھی اور معیاری چیزیں مل سکیں ، شدید سردی میں لنڈا ایک بہترین آپشن ہے کیونکہ یہ سفید پوشوں کا بھرم قائم رکھتا ہے ، ان ملبوسات کو خریدنے کے بعد اگلا مرحلہ ان کی دھلائی کا ہوتا ہے ، ڈیٹول اور سرف کے محلول میں ان ملبوسات کو دھو کر تیز دھوپ میں سکھائیں تاکہ اگر ان میں کوئی جراثیم ہوں تو وہ ختم ہو جائیں اور آپ تمام تر جلدی امراض سے محفوظ رہ سکیں ۔

ایسے سوئیٹر مت لیں جن کے ریشے چھبنے والے ہوں وہ آپ کو خارش جیسے موذی مرض میں مبتلا کردیں گے ۔ لنڈا کم قیمت بھی ہے اور جاذب نظر بھی ، ایک سوئیٹر کی قیمت میں دو سوئیٹر آسکتے ہیں ، دیدہ زیب پرس ، والٹس ، اور خوب صورت آنچل دیکھنے میں بھی اچھے لگتے ہیں اور کم قیمت بھی ہوتے ہیں ۔ اس بات کی فکر چھوڑ دیں کہ لوگ کیا کہیں گے ، ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ لوگ کیا سوچیں گے ؟

پہلی بات آپ کو اپنا بجٹ بھی دیکھنا ہے اور چیزوں کی پائیداری بھی مقصود ہے ، تیسرا اور اہم کام جو آپ کو کرنا ہے کہ خود پر دھیان دیں کہ کیا اچھا لگتا ہے ؟ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ دنیا کے تمام لوگوں کی خوشی کا باعث بن سکتے ہیں تو یقین مانئے کہ یہ صرف آپ کی خام خیالی اور بھولپن ہے ۔

لہذا اس منافقانہ دور میں اپنا وقار اور عزت نفس برقرار رکھئے اور جو بھی باوقار لباس پہنیں پورے اعتماد کے ساتھ تو اب آپ لنڈا خریدنے میں کوئی شرم تو محسوس نہیں کریں گے ناں ۔

راضیہ سید: راضیہ سید پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری کی حامل ہیں اور ایک دہائی سے زائدعرصے سے شعبہ صحافت سے بطور رپورٹر ، پروڈیوسر اور محقق وابستہ ہیں ، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے کالم اور بلاگز تحریر کرتی ہیں۔