میراسونہا پتراداس نہ ہو

ہر سال کی طرح اب بھی ہم پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیااور میں جو ایک شامی بچہ ہوں اب بھی اپنے دوستوں کی لاشوں پر رونے کے لئے رہ گیا‘ میری پیاری ماں تم بھی نہ جانے کہاں چلی گئی ہو؟ مجھے پتہ ہے کہ تم بھی کہیں مجھے ڈھونڈ رہی ہو گی۔

مجھے یاد ہے کہ جب میزائلوں سے ہمارے گھر پرحملہ ہوا تم رو رہی تھیں اور میں صحن میں بھاگ رہا تھا ، پھر مجھے کوئی خبر نہیں رہی کہ میں کہاں ہوں‘ میں جب جاگا تو مجھے بہت درد ہو رہا تھا میرے ساتھ والے بستر پر ایک بچی تھی اس کے پورے بدن پر خون تھا اورمجھے بہت ڈر بھی لگ رہا تھا۔

مجھے پتا ہے کہ ماں تم بھی میرا انتظار کررہی ہو گی اگرچہ کہ تمھاری آنکھوں کے دیے بجھ گئے ہیں‘ میرے واپس آنے کی سب امیدیں بھی ٹوٹ گئی ہیں، تم نے میری زندہ لاش کو بھی اس دھرتی کے سپرد کر دیا ہے لیکن پھر بھی تمھیں کسی کل چین نہیں ہے اتنا سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی تم میری منتظر ہو۔

ماں میں نے سنا تھا کہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں انھیں تو کوئی نہیں مارتا‘ کوئی ان کا خون نہیں بہاتا‘ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ میں اور میرے جیسے میرے دوستوں کا تو نہ صرف خون نکلا ہے بلکہ چہرے بھی مسخ ہو چکے ہیں‘ پوری دنیا میں ہماری صرف بات ہو رہی ہے‘ شام کی اب تک کی جنگ میں ایک ہزار سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیں لیکن کوئی ہماری مدد کو نہیں آتا۔

دنیا کو یہ علم نہیں کہ تم نے میری تعلیم کے حوالے سے کتنے سپنے دیکھ رکھے تھے‘ کتنی محبت اورشفقت سے میری پرورش کی تھی‘ میرے جوان ہونےکی حسرت ہر پل تمھارے من میں تھی لیکن اب شاید تم خود مجھے پہچان نہ سکو۔

ایک طرف ہمارے ملک کے حکمران ہیں ماں جن کے لئے ہماری جان بہت ارزاں ہے ، جو ہمیں نہیں بچا سکے ، جو اپنی سیکورٹی کو مضبوط نہیں کرسکے ، ہمارے بستے ، کاپیاں اور کتابیں سب خون آلودہ ہو گئیں لیکن کسی نے ہماری تکلیف کی پروا نہیں کی ، ہمارے چہرے جھلس گئے اور ہم بلکتے رہے لیکن کسی اقوام متحدہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

اور ایک طرف یہ دہشت گرد ہیں جن کے دل پتھر کےہیں اورشاید ان کے اپنے بچے نہیں ہیں جو ان کے دل میں ذرا برابر بھی رحم ہوتا۔

ماں آپ نے مجھے سمجھایا تھا کہ کوئی بھی اچھا برا نہیں ہوتا بلکہ اس کا ماحول اسکو اچھا یا برا بناتا ہے پر ماں ’’ اچھے ‘‘ آدمیوں کی جگہ یہ ’’گندے آدمی ‘‘ بہت زیادہ ہو گئے ہیں ناں ، جو پوری دنیا میں میرے جیسے بچوں کو مار رہے ہیں ، چاہے وہ شام ہو یا کشمیر یا فلسطین۔

ماں آپ نے تو مجھے کہا تھا کہ صرف تم اچھے بن جاؤ تو دنیا میں کم ازکم ایک برا آدمی پیدا نہیں ہوگا لیکن ماں میرےاچھا بننے سے تو کوئی فرق نہیں پڑا سب کے سب گندے آدمی بن گئے ، اور ہم سب کو تکلیف پہنچائی ، ماں آپ تو مجھے گھر میں بھی اپنے ساتھ سلاتی تھیں ناں کہ میں اکیلا ڈر جاتا تھا اس اسپتال میں میں بھی میری آنکھیں تمھیں ڈھونڈ رہی ہیں کہ تم میری منتظر ہو اور کہیں سے میرے پاس آکرابھی کہو گی کہ ’’ بس بیٹا میں آگئی میرا سونہا پتر اداس نہ ہو ‘‘۔

راضیہ سید: راضیہ سید پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی ڈگری کی حامل ہیں اور ایک دہائی سے زائدعرصے سے شعبہ صحافت سے بطور رپورٹر ، پروڈیوسر اور محقق وابستہ ہیں ، مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے کالم اور بلاگز تحریر کرتی ہیں۔