The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

باتیں بہت ہوچکی‘ اب کچھ کام کرتے ہیں

’’ہائے اللہ یہ بچے کیا کررہے ہیں؟‘‘
’’وہی جو اِن کے بڑے نہیں کررہے۔‘‘
’’ لیکن یہ تو ان کے پڑھنے لکھنے کی عمر ہے، کہاں ان کو کچرا سمیٹنے پر لگا دیا ہے؟‘‘
’’ کچرا کرنا ان کے بڑوں نے سیکھایا ہے لیکن کچرا سمیٹنا ان کے استاد انھیں سکھا رہے ہیں۔‘‘
’’ اچھا …لیکن اس طرح تو یہ بیمار ہوجائیں گے۔‘‘

’’وہی تو … یہ کچرا اگر نہیں سمیٹا گیا تب تو یہ ضرور بیمار ہوجائیں گے۔‘‘
’’دیکھ لو اگر ان کے بڑوں کو پتہ چلا ناں کہ آج اسکول والوں نے بچوں کو گلی کی صفائی پر لگایا ہے تو وہ ضرور ناراض ہوں گے۔‘‘
’’عجیب بات ہے گندگی کرنے پر تو وہ ناراض نہیں ہوتے لیکن صفائی کرنے پر کیوں ہوتے ہیں؟‘‘
’’فکر نہ کرو اگر یہ کچرا کوئی نہیں سمیٹے گا تو یہ بچے اپنے بڑوں کو بتائیں گے کہ کس طرح گلی کا کچرا اٹھایا جاسکتا ہے۔‘‘
’’ اچھا اب بچے بڑوں کو سیکھائیں گے کہ کچرا کس طرح سمیٹا جاتا ہے۔‘‘
’’ بڑے تو سیکھنے کی عمر سے نکل چکے ہیں ورنہ وہ ضرور بچوں سے سبق حاصل کرتے۔‘‘
’’ہمارے زمانے میں تو اسکول میں صرف پڑھایا جاتا تھا کہ کچرا نہیں کرنا چاہیے، لیکن ہمیشہ اپنے بڑوں کو کچرا کرتے ہوئے ہی دیکھا۔‘‘
’’ زمانہ بدل گیا ہے ، اب بچوں کو باتوں سے نہیں عمل سے سیکھایاجارہا ہے۔ ‘‘
’’اس کا مطلب ہے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جارہی ہے۔‘‘
’’اچھا یہ بچے بڑے ہو کر کیا ملک کا کچرا صاف کریں گے؟‘‘
’’ ہاں اگر یہ کام پہلے کرلیا جاتا تو شاید آج ملک ترقی کررہا ہوتا۔ دیکھتے نہیں یہ ہمارے ’بڑے ‘ باہر جا کر دوسروں کا گند صاف کرتے ہیں اور یہاں آکر گند کرتے ہیں۔‘‘
’’ یہ ان بچوں کے ساتھ کچھ بڑے بھی دکھائی دے رہے ہیں، یہ ان کے استاد تو نہیں لگتے۔‘‘
’’ ٹھیک کہا یہ استاد تو نہیں لیکن استادوں کے بھی استاد ہیں۔‘‘

’’ کیا مطلب؟‘‘
’’ یہ علاقہ ماڈل کالونی کے کونسلرز اور نائب چیئرمین ہیں‘‘
’’ لیکن یہ یہاں کیا کررہے ہیں ان کا تو یہ کام ہے کہ علاقہ کی صفائی کروائیں۔‘‘
’’علاقہ کی صفائی کرواسکتے تو کیا ضرورت تھی ان بچوں کے ساتھ کھڑے ہوکر یہاں دھول مٹی پھونکنے کی۔‘‘
’’سندھ حکومت تو کہتی ہے کہ ہم نے اختیارات اور وسائل دیے ہیں۔‘‘
’’ہاں اتنے ہی اختیارات اور وسائل ہیں کہ جن سے ان کی گلی کا کچرا اٹھ سکے۔‘‘
’’ اگر ان کو اختیارات اور وسائل نہیں دینے تھے تو پھر الیکشن پر اتنا پیسہ کیوں خرچ کیا؟‘‘
’’حکومت کے نمائندے منتخب نہیں ہوسکے اس لیے اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جارہے۔‘‘
’’لیکن الیکشن تو عوام کے نمائندے منتخب ہونے کے لیے کیے جاتے ہیں نہ کہ حکومت کے نمائندے منتخب کرنے کے لیے۔ ‘‘
’’یہی تو مسئلہ ہے ۔‘‘
’’ چلو اب باتیں کرنے کا وقت گزر گیا۔ چل کر ان بچوں کا ساتھ دیتے ہیں ۔‘‘
’’ہاں باتیں بہت ہوچکی ہیں اب کچھ کام کرتے ہیں۔‘‘

Print Friendly, PDF & Email