The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

کچھ اور بڑھ گئے ہیں اندھیرے تو کیا ہوا ؟

مجھے اس بات سے کلی اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا نے ہماری نوجوان نسل کے اخلاق کو سو فیصد تک تو نہیں ہاں البتہ اسی فیصد تک متاثر توضرور کیا ہے ۔ تاہم ہم یہ بھی نہیں جھٹلا سکتے کہ ہر چیز کے مثبت اور منفی سبھی عوامل موجود ہیں ۔

ہم سب کی زندگیوں میں چند سیاہ نقطے ہوتے ہیں جن کو کبھی تو ہم اپنی شخصیت کا مستقل حصہ بنا لیتے ہیں تو کبھی ان کا سامنا کرنے کی ہمت ہی مجتمع نہیں کر پاتے ۔

اصل میں جب ہماری آنکھوں کے سامنے چند نادیدہ جالے یا دھندلا پن آجاتا ہے تو ہمیں یہ سیاہ نقطہ وسیع ہوتا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے ۔ پھر ہمیں کچھ نظر نہیں آتا خواہ کسی کا اخلاص ہو یا محبت۔

خیر سوشل میڈیا سے یاد آیا کہ گذشتہ دنوں مجھے ایک دیرینہ دوست کے توسط سے واٹس ایپ پر ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں اسی سیاہ نقطے کے بارے میں بات کی گئی تھی کہ ایک استاد نے اپنے تمام طالب علموں کو ایک سادہ کاغذ دیا جس کے بیچوں بیچ ایک سیاہ نقطہ تھا اور انھیں کہا کہ اسے دیکھ کر جو ان کے ذہن میں آتا ہے وہ اسے صفحات پر منتقل کردیں المختصر تمام طالب علموں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق وہ پرچہ حل کیا ۔

جب استاد محترم نے تمام طالب علموں کے پرچے چیک کئے تو انھیں نہایت مایوسی کے عالم میں یہ کہنا پڑا کہ آپ سب نے میرے مقصد کو نہیں سمجھا کسی نے بھی اتنے بڑے خالی سفید صفحے کے بارے میں نہیں لکھا بلکہ سب کی سوچ اسی سیاہ نقطے کے گرد ہی گھومتی رہی۔

بس یہی سیاہ نقطہ ایسا ہے جسے ہم اپنی پوری زندگی پر محیط کر لیتے ہیں کہ ہمارے پاس نوکری نہیں ، یا ہم بیمار ہیں ، یا ہماری شادی نہیں ہو رہی ، یا یہ کہ دنیا میں ہمارا کوئی خیر خواہ نہیں رہا اسی ایک مایوسی کے سیاہ نقطے کی وجہ سے ہم اللہ تعالی کی تمام تر نعمتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کا شکر ادا نہیں کرتے ۔ہم ایسے کاموں کے بارے میں کیوں پریشان ہوتے ہیں جن پر ہمارا اختیار نہیں ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی سائل نے سوال کیا کہ ’’مولا انسان کتنا با اختیار ہے ؟ ‘‘ تو مولا نے فرمایا ’’ کہ محض اتنا کہ وہ اپنا ایک پاؤں بغیر سہارے کے اٹھا سکتا ہے اور دوسری ٹانگ نہیں اٹھا سکتا ، بس یہی ایک پاؤں کی قدرت رکھتا ہے انسان۔‘‘

تو جب ہر سانس جو اللہ تعالی کی امانت ہے اس کا بھروسہ نہیں تو کیوں اس سیاہ نقطے کے گرد ہی گھوما جائے ؟ ہم چاہیں تو اس نقطے کی سیاہی اپنے مثبت کردار و عمل سے ختم کر سکتے ہیں تو یہ کوشش آج سے ہی کیوں نہیں اوراس لئے کہ ہمارامنشور تو صرف بس یہ ایک شعر ہی ہونا چاہیے۔

کچھ اور بڑھ گئے ہیں اندھیرے تو کیا ہوا ؟
مایوس تو نہیں ہیں طلوع سحر سے ہم

Print Friendly, PDF & Email