The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

یہ عوام بھی آپ کے ہیں

پطرس بخاری ایک مرتبہ اپنے دفتر میں کام نمٹا رہے تھے کہ ایک صاحب ان سے ملنے کے لئے آئے ۔ جب بخاری صاحب نے انہیں تشریف رکھنے کے لئے کہا تو وہ شخص بولا کہ جناب میں قومی اسمبلی کا ممبر ہوں تو پطرس بخاری صاحب نے بغیر نوٹس لئے ہوئے کہا کہ اچھا جی اگر آپ قومی اسمبلی کے ممبر ہیں تو دو کرسیوں پر تشریف رکھ لیں۔

آج کل کے دور میں ایسے ہی افراد کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں سب کو ایک نظر سے ہی دیکھیں ۔

 چلیں اب بات آگئی ہے تو سنتے چلیں کہ آج سے دس سال پہلے میرا دفتر اسلام آباد (زیرو پوائنٹ ) پر تھا اور میں ایک موقر انگریزی روزنامے میں بطور رپورٹر فرائض سرانجام دے رہی تھی ایک دن جب میں گھر روانگی کے لئے دفتر سے چلی تو معلوم ہوا کہ روٹ لگا ہوا ہے کیونکہ جنرل صاحب نے گذرنا ہے ، خیر تفصیل تو پھر آپ کو معلوم ہی ہے ناں سخت گرمی ، تاخیر سے گھر پہنچنا اور خفت الگ۔

میری ماموں کی بیٹی کو الرجی کا مسئلہ ہے اور جب پولن کا موسم ہو تو یہ مرض اور بھی بڑھ جاتا ہے اور سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے انھیں ہسپتال منتقل  کرنا پڑتا ہے لیکن یہاں بھی ایمبولینس کو راستہ نہ مل سکا کیونکہ امریکا اور بھارت کے خارجہ سیکرٹری ایک کانفرنس کے سلسلے میں یہاں اسلام آباد آئے ہوئے تھے ۔ ان کے لئے تمام سیکورٹی انتظامات مکمل تھے لیکن خوار جڑواں شہر کے باسی ہورہے تھے ۔

اب آجاتے ہیں دھرنوں پر قمر انکل کی بہن کی وفات ہو چکی تھی انھیں جنازے میں شرکت کے لئے گاؤں جانا تھا اور اپنے ایک بھائی کو بھی لے کے جانا تھا لیکن دھرنوں ، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراو کی وجہ سے پورا اسلام آباد بند پڑا تھا۔ نتیجہ یہی ہوا کہ وہ اس دن اپنی پیاری بہن کا چہرہ نہیں دیکھ سکے ۔

میں یہاں صرف پروٹوکول کی بات نہیں کر رہی بلکہ ہمارے ملک میں روز طرح طرح کے واقعات ہوتے ہیں ، سٹرکوں پر ٹائر جلائے جاتے ہیں ، لوگوں کی قیمتی املاک نذر آتش کی جاتی ہیں ۔ جلسے جلوس اور ہنگاموں نے ہم سب کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے ۔ سڑکوں پر رش اور ایمبولینس میں لاشیں اب کوئی نیا منظر نہیں رہا ۔

سوال صرف ہر فرد کا یہی ہے کہ مانا کہ یہ ملک بھی ان سیاست دانوں کا ہی ہے ، اس کے وسائل بھی ان ہی اہم پروٹوکول والی شخصیات کے ہیں ، دولت بھی ان  کی ہی ہے تو یہ عوام آپ کے کیوں نہیں ؟ کیونکہ عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے ہی آپ کے محلات کھڑے ہیں ، ان کی وجہ سے ہی آپ کی بادشاہت قائم ہے، آپ کا عروج اور شان و شوکت تو اس عوام کی وجہ سے ہی ہے ،

 مان لیا کہ آپ کے تمام اثاثے تو بیرون ملک ہوتے ہیں لیکن اس عوام کا کیا قصور جو ووٹ بھی آپ کو دیں ، محنت بھی اس ملک کے لئے کریں اور جواب میں ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہو

کبھی انھیں ہسپتالوں میں جگہ نہ ملے ، پینے کا صاف پانی نہ ملے ، گلیوں اور بازاروں میں کچرا جمع ہو ، صفائی کی صورتحال ابتر ہو ، جان و مال کا کوئی تحفظ نہ ہو ۔کیا یہ عوام آپ کے نہیں ہیں ، آپ عوام کو تو بہت احتساب کا درس دیتے نظر آتے ہیں کیا خود حقیقی معنوں میں احتساب سے گذرے ہیں ؟ کیا کبھی ان مظلوم شہریوں کو بھی اپنا سمجھا ہے ؟

جس دن ان اہم شخصیات اور لوگوں کی املاک جلانے والوں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ عوام بھی ہمارے ہیں بس اسی دن سے تبدیلی کا آغاز ہو جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں