The news is by your side.
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

غلام تو ہم ہیں

ہمارے محلے میں آنٹی خورشید کے گھر کام کرنے والی خاتون نذیراں آتی ہے جس کی آمد کی اطلاع پورے محلے والوں کو ہو جاتی ہے ا س کی  وجہ یہ نہیں کہ نذیراں ہڈ حرام ہے یا اپنی مالکن سے بدظن ہے بلکہ وجہ محض یہ ہے کہ آنٹی اس سے کام کرانے کے ساتھ ساتھ اس کی عزت نفس کو بھی مجروح کرتی رہتی ہیں حالانکہ دیکھا جائے تو ایک غریب کے پاس سوائے عزت نفس کے اور ہوتا ہی کیا ہے ؟۔

مجھے نذیراں کی غربت پر بہت ترس آتا ہے جس کی وجہ سے اسے یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے ، کل بھی اس کی حالت دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ اس کی حالت تو بالکل غلاموں جیسی ہے ہاں فرق صرف یہ ہے کہ اس کے ہاتھوں میں قدیم یونانی قیدیوں کی طرح بیڑیاں اور زنجیریں نہیں ہیں ۔

مانیں نہ مانیں ہمارے معاشرے میں غلامی اب تک کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے ، ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تین کروڑ سے زائد افراد اب تک غلام ہیں ۔ان میں مردوں کے علاوہ عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ ستر لاکھ سے زائد مردوں اور عورتوں کی ہر سال سمگلنگ کی جاتی ہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارے یہ ضرور بتاتے ہیں کہ سالانہ بیس لاکھ بچے دنیا بھر میں فروخت ہوتے ہیں لیکن دوسری طرف ان محکوم بالخصوص مسلم اقوام کا ذکر تک کرنا گوارا نہیں کیا جاتا ۔ جنہیں معاشی طور پر مفلوج کر دیا جاتا ہے جن کی زندگیوں کی قیمت تک وصول کر لی گئی ہوتی ہے ۔

ہم سب بھی بطور مسلمان یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام میں غلامی کا کوئی تصور نہیں اور ہمارے نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہہ کو موذنِ رسول کا خطاب دیا ، ہم اپنے گھروں میں خدمت گذاروں اور ملازمین کو جان بوجھ کر ڈانٹتے ہیں ، انھیں غلام سمجھ کر ان کی عزت نفس کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں ، ان پر تشدد کرتے ہیں اور خود کو یہ تسلیاں دیتے ہیں کہ ہم نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے ۔

اگر ہم سوچیں ناں تو ہم خود غلام ہیں ، ہماری سوچ محدود ہے ، ہم اپنی برابری کے لیول پر ان افراد کو لانا نہیں چاہتے ، یہ نہیں سوچتے کہ ان کی مجبوریوں نے انھیں اس حال تک پہنچایا ہے ، ہم انسانیت کے درجے سے گرنا تو پسند کرتے ہیں لیکن اپنی غلامی کی نادیدہ زنجیریں کبھی توڑنا پسند نہیں کرتے ‘ اصل غلام تو ہم ہی ہیں ناں ۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں