The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

حالانکہ میں تو مسافر تھا

میں ایک مسافر ہوں اور میرا کام ہی بس چلتے رہنا ہے ، اپنی چشم تصور سے ہے لیکن ہی میں بہت سی مسافت طے کر لیتا ہوں ۔ میری منزل تو بہت دورلیکن میرے راستے میں کئی ایسے مقام آئے ہیں جن پر میں رک بھی سکتا تھا وہ کیا ہے ناں کہ میں بےحس ہوں ، میں اس معاشرے کا ایک مردہ مسافر ہوں ۔ایک مردہ معاشرے کا ایک ایسا مردہ فرد ہوں جو مکالمے پر یقین تو رکھتا ہے لیکن مکالمے کی اجازت نہیں رکھتا ۔

میں صرف تبدیلی چاہتا ہوں لیکن تبدیلی کے لئے ماحول سازگار نہیں بناتا ،  قبول نہیں کرتا ، میں ٹریفک حادثوں کو دیکھتا ہوں ، قتل و غارت دیکھتا تبدیلہوں لیکن اخبارکے ساتھ اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہوں ۔ خیر ذکر ہے میرے سفر کا ،میرے سامنے والی گلی میں ایک فرقہ دوسرے کے خلاف نعرہ بازی کر  رہا ہے ،  پولیس بے بس سی نظر آرہی ہے ۔ میرا بچہ ! آپ باہر نہ جانا کوئی آپ کو نقصان نہ پہنچا دے ، معصوم نادان ہے میرا بیٹا اسے کیا پتہ کچھ دیر کے بعد گلی سنسان ہو جائے گی کوئی کچھ نہیں کہے گا دو چار بندے مریں گے اور بس ختم ۔۔

کچھ دیر کے بعد آگے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوڑےکو غیرت کے نام پر مارا جا رہا تھا گولی چل رہی تھی ، اب میں اتنا بھی غیرت مند نہیں ہوں کہ اس  جوڑے کی مدد کرتا ، بھئی اپنی مرضی سے شادی اس معاشرے میں جرم ہی تو ہے۔

تو اب بگھتو بھی ۔۔اب میرا وہاں کیا کام رہ جاتا تھا ؟ سو میں چلتا ہی رہا ۔

معاشرے کی تو شکایت کرتا ہوں لیکن خود میرا قصور یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتا ، مسافروں کی طرح ہر نئے اسٹیشن پر چند لمحے انتظار کر کے چلا جاتا ہوں ۔لیکن دو واقعات میرے رونگھٹے اڑا دینے کے لئے کافی ہیں ایک معصوم آٹھ سال بچی کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی میری ریڑھ کی  ہڈی میں ہڈی میں سنسناہٹ سی  ہو رہی تھی ، سو فورا وہاں سے نظریں چرا کر دوسری جانب نگاہ کی تو بہت سے شامی معصوم بچے گولیوں اور میزائلوں کی زد میں تھے ۔

میں ہوں تو بے حس ہی لیکن اب تک شاید آپ یہ نہیں جان پائے کہ اب میری آنکھوں کے کونوں سے کہیں دو آنسو آکر ٹھہر سے گئے ہیں ا ورمیں یہیں رک گیا ہوں ‘ حالانکہ میں تو مسافر تھا ناں ۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email