The news is by your side.
betsat
anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri
ankara escort escort ankara escort
escort istanbul

سوشل میڈیا دانشوراور بے سروپا تحاریر

جون ایلیا نے ایک مرتبہ کہیں  کہا تھا کہ’بہت سے لوگوں کو پڑھنا چاہیے لیکن وہ لکھ رہے ہیں‘ ، یہ جملہ مجھے تب یاد آیا جب کل مجھے ایک شخص کی بات پر بہت حیرت ہوئی جب انھوں نے ایک متنازعہ تحریر کا ذکر کیا اور کہا کہ واللہ کیا واہیاتی لکھ دی کیا چول مار دی فلاں صاحبہ کی تحریر پڑھ کر میری تو طبعیت مکدر ہو گئی ، زیادہ غصہ مجھے اس بات پر آیا کہ انھوں نے مجھے بھی اس تحریر کو پڑھنے کا مشورہ دیا۔

 خیر بات آئی گئی ہوگئی لیکن یہ بات مجھ پر بہت سی سوچوں کا در وا کر گئی ۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ آج کل کی نوجوان نسل کس سمت جا رہی ہے کہ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں رہا کہ کیا پڑھنا چاہیے اور کیا نہیں ؟۔

یہ صورتحال بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے کہا جاتا ہے کہ خدا گنجے کو ناخن نہ دے وہ خود کو ہی زخمی کر لے گا بالکل اسی کے  مصداق پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کل ہر شخص خود کو لکھاری منوانے پر اڑا ہوا ہے اور جو چاہے لکھ رہا ہے ،قلم بالکل ایک خطرناک ہتھیار بن کر رہ گیا ہے اب بہت سی ایسی ویب سائٹس آگئی ہیں جن پر غلط اور مبہم تحقیق شائع ہو رہی ہے  اور کسی قسم کا کوئی حدود و توازن نہیں ۔

دوسری جانب ہمارا ایک پڑھا لکھا جاہل طبقہ ہے جو ہر سطحی اور متنازعہ تحریروں کی چکا چوند سے متاثر ہو کر ایسے موسمی لکھاریوں کی شہرت میں اضافہ کر رہا ہے ۔

سوشل میڈیا رشتوں کے لیے زہر قاتل؟*

 اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ایسے قاری بالکل فارغ ہیں اور کوئی کام جھام نہیں بس جو چیز ان کے سامنے آرہی ہے وہ اسے پڑھتے جا رہے ہیں ، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی گھر سے تربیت نہیں ہوئی کہ انھیں کم ازکم یہ بتایا جائے کہ کیا چیز پڑھنی چاہیے اور کیا نہیں ؟ایک وقت ہوتا تھا کہ لوگوں کے گھروں میں باقاعدہ کتب خانے ہوا کرتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ہاکر سے کئی اچھے رسائل بھی گھر کے بچوں کی تربیت کے لئے لگوائے جاتے تھے اور بچوں کو ایسا تحریری مواد گھر پر پڑھنے کو فراہم کیا جاتا تھا کہ انھیں کچھ ہی عرصے کے بعد اچھا برا سمجھنے کی توفیق ہو جاتی تھی ۔

اب ایسے حالات رونما ہورہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ہر کوئی دانشور بنا ہوا ہے ، یہاں وہاں سے کئی لوگوں کے نظریات جمع کئے اور ایک طرح کی کتاب ہی لکھ ڈالی ، لوگوں کو گمراہ کیا ، سچ جھوٹ کی پوری تفسیر بیان کر دی اور اب چاہے ان کی بلا سے کوئی نافرمان بنے یا بدتمیز ، کسی کو کوئی پروا ہی نہیں ہے ۔ بس آپ نے تو اپنا سٹیٹس اپ ڈیٹ کر دیا ناں یہ فرض کافی ہو گیا ۔ اب چاہے قوم بگڑے یا کچھ بھی ہو ، یہ فکر آپ کی نہیں ہے ۔

میں  مانتی ہوں کہ کئی لکھنے والے ایسے ہیں جو اپنی روش سے کبھی باز نہیں آتے اور ایسی تحریریں لکھتے ہیں جو ادب کے شایان شان نہیں  ، ایسی تحریریں لکھتے ہیں جو سطحی اور گمراہ کن ہوتی ہیں ، لیکن ایسے قارئین جو ان  تحریروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں‘ ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟۔


اگر آپ بلاگر کے مضمون سے متفق نہیں ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پرشیئرکریں

Print Friendly, PDF & Email