The news is by your side.
betsat

bettilt

anadolu yakası escort bostancı escort bostancı escort bayan kadıköy escort bayan kartal escort ataşehir escort bayan ümraniye escort bayan
kaçak bahis siteleri canlı casino siteleri
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
maslak escort
istanbul escort şişli escort antalya escort
en iyi filmler
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
aviator oyunu oyna lightning rulet siteleri slot siteleri

بارش کی تباہی اور حکمرانوں کا فوٹو سیشن

تحریر: کامل عارف

بارش نے تباہی کیا مچائی سوشل میڈیا پر تصویروں کی بھر مار ہوگئی، ان میں کچھ تصاویر تو شہر کے حالات سے متعلق تھیں جن سے شہر کی صورتحال واضح ہو رہی تھی اور ہر ایک تصویر حکومتی اداروں کے منہ پر تماچہ مار رہی تھیں اور کچھ تصویریں تھیں وزیروں کی حکومتی عہدیداروں کی اورانتظامیہ کے لوگوں کی جو تصویروں سے ظاہر کر رہے تھے کہ ان کو ان بارشوں اور تباہی کا کتنا دکھ اور افسوس ہو رہا ہے اور بہت دل کے ساتھ شہر کی تباہ صورتحال کو ٹھیک کرنا چاہ رہے ہیں۔

اس دکھ افسوس اور جذبے کا اظہار ہر کوئی ایک دوسرے پر الزام لگا کر کر رہا تھا، مئیر صاحب نے کہا میں کچھ نہیں کرسکتا سندھ حکومت ذمہ دار ہے اور اسی طرح وزیر بلدیات نے فرمایا کہ کے ایم سی کو نالوں کی صفائی کے لیے پچاس کڑور روپے دیئے تھے۔

بس یہ تھی پوری تباہی کی بعد کی اصل محنت، میں نے بحیثیت رپورٹر پورے دن امدادی کام کرنے والوں سے رابطے کیے اور پوچھا کہ کہاں کہاں پانی جمع ہوا کس کس علاقے میں کس کس کے گھر میں پانی گیا تو مختلف علاقوں کا پتہ چلا۔

پھر میرا سوال تھا کہ کیا کسی وزیر مئیر ڈپٹی مئیر گورنر یا کسی حکومتی شخصیت کی شکایت ملی کہ ان کے گھر میں بھی پانی داخل ہوگیا کیوں کہ وہ بھی تو اس ہی شہر میں رہتے ہیں تو کہیں سے اب تک کسی بھی ایسے اہم شخصیت کے گھر پانی داخل ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ بات یہاں کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایسی تمام شخصیات ایسے علاقوں اور ایسے بڑے گھروں میں رہتی ہیں جہاں بارش ایک رحمت ہی لگتی ہے، وہاں نالے بھی صاف ہیں اور نالوں پر تجاوزات بھی نہیں تو بھلا ان شخصیات کو اس شہر کی تباہی کی کیا پرواہ، اب تو اس شہر کی تباہی پر سیاست ہوگی۔

شہریوں کی تکلیف پربیانات ایسے دئیے جائیں گے جسے ان کے گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہو اس شہر کو لوٹنے والوں سے آج کی بارشوں کے بعد یہ تباہ حالی سوال کرتی ہے وہ کروڑوں روپے کہاں خرچ کیے گئے، کہاں ہے صفائی کا نظام؟

اگر یہاں ہیوسٹن جیسی آفت آجائے تو کیا ہو گا اگر کبھی کوئی بڑی آفات کا سامنا خدانخواستہ کرنا پڑا تو یہاں کے لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا یہ لکھنا ضروری نہیں یہ آج سب کو دکھ رہاہے۔

شہر قائد کے رہنے والے ہر شخص کو اپنی مدد آپ امدادی کاموں کے لیے تیار رہنا چاہئے کیوں کہ ذمہ داران صرف تصویریں سوشل میڈیا ہر اپ لوڈ کرنے اور میڈیا کے سامنے پبلسٹی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے اور ہاں! کام کرنے سے یاد آیا یہ ایک کام ہی کرسکتے ہیں اور وہ ہے بجٹ ہضم کرنا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email