The news is by your side.
Güvenilir bahis siteleri 2022
betsat
mecidiyeköy escort mecidiyeköy escort etiler escort etiler escort taksim escort beşiktaş escort şişli escort bakırköy escort ataköy escort şirinevler escort avcılar escort esenyurt escort bahçeşehir escort istanbul escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort sakarya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort alanya escort
mariobet.biz
betwoon kayıt
deneme bonusu veren siteler
canlı casino
kralbet betturkey 1xbetm.info wiibet.com tipobet deneme bonusu veren siteler mariobet supertotobet bahis.com
vip escort Bitlis escort Siirt escort Çorum escort Burdur escort Diyarbakir escort Edirne escort Düzce escort Erzurum escort Kırklareli escort
etimesgut escort eryaman escort sincan escort etlik escort keçiören escort kızılay escort çankaya escort rus escort demetevler escort esat escort cebeci escort yenimahalle escort
gaziantep escort
gaziantep escort
modabet giriş
ankara escort escort ankara escort
Tipobet365
Canlı Kumar
istanbul evden eve nakliyat
Group of passionate teen angels lick every other Hottie babe Lou Charmelle fucking a black meat Milf Nina Elle gets fucked in dogystyle

بارش کی تباہی اور حکمرانوں کا فوٹو سیشن

تحریر: کامل عارف

بارش نے تباہی کیا مچائی سوشل میڈیا پر تصویروں کی بھر مار ہوگئی، ان میں کچھ تصاویر تو شہر کے حالات سے متعلق تھیں جن سے شہر کی صورتحال واضح ہو رہی تھی اور ہر ایک تصویر حکومتی اداروں کے منہ پر تماچہ مار رہی تھیں اور کچھ تصویریں تھیں وزیروں کی حکومتی عہدیداروں کی اورانتظامیہ کے لوگوں کی جو تصویروں سے ظاہر کر رہے تھے کہ ان کو ان بارشوں اور تباہی کا کتنا دکھ اور افسوس ہو رہا ہے اور بہت دل کے ساتھ شہر کی تباہ صورتحال کو ٹھیک کرنا چاہ رہے ہیں۔

اس دکھ افسوس اور جذبے کا اظہار ہر کوئی ایک دوسرے پر الزام لگا کر کر رہا تھا، مئیر صاحب نے کہا میں کچھ نہیں کرسکتا سندھ حکومت ذمہ دار ہے اور اسی طرح وزیر بلدیات نے فرمایا کہ کے ایم سی کو نالوں کی صفائی کے لیے پچاس کڑور روپے دیئے تھے۔

بس یہ تھی پوری تباہی کی بعد کی اصل محنت، میں نے بحیثیت رپورٹر پورے دن امدادی کام کرنے والوں سے رابطے کیے اور پوچھا کہ کہاں کہاں پانی جمع ہوا کس کس علاقے میں کس کس کے گھر میں پانی گیا تو مختلف علاقوں کا پتہ چلا۔

پھر میرا سوال تھا کہ کیا کسی وزیر مئیر ڈپٹی مئیر گورنر یا کسی حکومتی شخصیت کی شکایت ملی کہ ان کے گھر میں بھی پانی داخل ہوگیا کیوں کہ وہ بھی تو اس ہی شہر میں رہتے ہیں تو کہیں سے اب تک کسی بھی ایسے اہم شخصیت کے گھر پانی داخل ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ بات یہاں کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایسی تمام شخصیات ایسے علاقوں اور ایسے بڑے گھروں میں رہتی ہیں جہاں بارش ایک رحمت ہی لگتی ہے، وہاں نالے بھی صاف ہیں اور نالوں پر تجاوزات بھی نہیں تو بھلا ان شخصیات کو اس شہر کی تباہی کی کیا پرواہ، اب تو اس شہر کی تباہی پر سیاست ہوگی۔

شہریوں کی تکلیف پربیانات ایسے دئیے جائیں گے جسے ان کے گھروں میں پانی داخل ہوگیا ہو اس شہر کو لوٹنے والوں سے آج کی بارشوں کے بعد یہ تباہ حالی سوال کرتی ہے وہ کروڑوں روپے کہاں خرچ کیے گئے، کہاں ہے صفائی کا نظام؟

اگر یہاں ہیوسٹن جیسی آفت آجائے تو کیا ہو گا اگر کبھی کوئی بڑی آفات کا سامنا خدانخواستہ کرنا پڑا تو یہاں کے لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا یہ لکھنا ضروری نہیں یہ آج سب کو دکھ رہاہے۔

شہر قائد کے رہنے والے ہر شخص کو اپنی مدد آپ امدادی کاموں کے لیے تیار رہنا چاہئے کیوں کہ ذمہ داران صرف تصویریں سوشل میڈیا ہر اپ لوڈ کرنے اور میڈیا کے سامنے پبلسٹی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے اور ہاں! کام کرنے سے یاد آیا یہ ایک کام ہی کرسکتے ہیں اور وہ ہے بجٹ ہضم کرنا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
شاید آپ یہ بھی پسند کریں